جمعہ 9 اکتوبر 2026 - 19:56
آخرت کی کامیابی کے لیے تقویٰ بہترین توشۂ راہ ہے: مولانا امین حیدر حسینی

حوزہ/ انہوں نے تقویٰ الٰہی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ آخرت کے سفر کے لیے بہترین توشۂ راہ تقویٰ ہے۔ انہوں نے امام زین العابدین علیہ السلام کی تعلیمات کی روشنی میں مومن کی پانچ نشانیاں بیان کیں اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانے، سچ بولنے اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے پر زور دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرکزی شیعہ جامع مسجد، بنارس، اتر پردیش میں نائب امام جمعہ حجۃ الاسلام مولانا سید امین حیدر حسینی کی اقتدا میں نماز جمعہ ادا کی گئی۔ خطبۂ جمعہ میں انہوں نے تقویٰ الٰہی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ آخرت کے سفر کے لیے بہترین توشۂ راہ تقویٰ ہے۔ انہوں نے امام زین العابدین علیہ السلام کی تعلیمات کی روشنی میں مومن کی پانچ نشانیاں بیان کیں اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانے، سچ بولنے اور اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے پر زور دیا۔

مولانا امین حیدر حسینی نے سورۂ بقرہ کی آیت 197 "وَ تَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوى" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو آخرت کی تیاری کا حکم دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے۔ جس طرح انسان دنیا کے سفر کے لیے ضروری سامان جمع کرتا ہے، اسی طرح آخرت کے سفر کے لیے بھی نیک اعمال، عبادت اور اللہ کی اطاعت ضروری ہے۔ تقویٰ انسان کو مشکلات کا سامنا کرنے کی روحانی طاقت دیتا ہے اور اسے گناہوں سے بچنے میں مدد کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ متقی انسان سے اگر کوئی غلطی ہو جائے تو وہ توبہ و استغفار کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں رجوع کرتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ، اس کے رسول اور صاحبانِ امر کی اطاعت کا حکم دیا گیا ہے، اس لیے ہر انسان کو اپنی زندگی میں تقویٰ اور اطاعت کو اہمیت دینی چاہیے۔

امام سجاد علیہ السلام کے مطابق مومن کی پانچ نشانیاں

مولانا نے امام زین العابدین علیہ السلام کی تعلیمات بیان کرتے ہوئے کہا کہ مومن کی پہلی نشانی تنہائی میں بھی گناہوں سے بچنا ہے، کیونکہ انسان اپنے گناہوں کو لوگوں سے چھپا سکتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ سے کچھ پوشیدہ نہیں ہے۔ دوسری نشانی تنگ دستی کے باوجود صدقہ دینا اور ضرورت مندوں کی مدد کرنا ہے۔ تیسری نشانی مصیبت کے وقت صبر کرنا، چوتھی غصے کی حالت میں تحمل اور ضبط سے کام لینا، جبکہ پانچویں نشانی خوف اور نقصان کے اندیشے کے باوجود سچ بولنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان صفات کو اپنانے سے انسان کا ایمان مضبوط ہوتا ہے اور وہ زندگی کے مختلف حالات میں حق و انصاف کا ساتھ دے سکتا ہے۔

اسلام ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کی تعلیم دیتا ہے

مولانا امین حیدر حسینی نے کہا کہ اسلام انسان کو دوسروں کے لیے فائدہ مند بننے اور معاشرے میں انصاف قائم کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر کسی پر ظلم ہو رہا ہو تو اس کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے، لیکن ظلم کے خلاف جدوجہد کا مطلب خود کسی پر ظلم کرنا نہیں ہے۔ اسلام ہر حال میں انسانیت، انصاف اور دوسروں کے حقوق کی حفاظت پر زور دیتا ہے۔

اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی تاکید

دوسرے خطبے میں انہوں نے امام رضا علیہ السلام کی حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے مقابلے میں تقویٰ اختیار کرو اور گناہوں کے ذریعے ان نعمتوں کو خود سے دور نہ کرو۔ انسان کو اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کی قدر کرنی چاہیے، کیونکہ وہ ان نعمتوں کو شمار بھی نہیں کرسکتا۔ سانس لینا بھی اللہ کی ایک بڑی نعمت ہے، جس کے بغیر زندگی ممکن نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دعا، شکر اور استغفار اللہ تعالیٰ سے قربت حاصل کرنے کے اہم ذرائع ہیں۔ انسان کو چاہیے کہ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرے، اپنے گناہوں کی معافی مانگے اور اس کی رحمت کا امیدوار رہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت اور مصلحت کے مطابق اپنے بندوں کی دعائیں قبول فرماتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha